الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ الْأَمْرِ بِأَخْذِ مَا تُسَاقِطْ مِنَ اللُّقَيْمَاتِ وَلَعْقِ الأَصَابِع بَعْدَ إِنْتِهَاءِ الْأَكْلِ وَمَا جَاءَ فِي لَحْسِ الْقَصْعَةِ وَاسْتِغْفَارِهَا لِلْآكِلِ باب: زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7424
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ قِيلَ وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ قَالَ فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطاء سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلال والے کتنے ہی اچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا وہ خلال والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط: ۱/۳۹ـ، صحیحہ:۲۵۶۷)