حدیث نمبر: 7423
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَقَالَ لَنَا حَدَّثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نبیشہ الخیر ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ام عاصم نے کہا کہ ہم ایک پیالہ میں کھا رہے تھے کہ یہ نبیشہ ہذلی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ جو آدمی پیالہ میں کھائے اور پھر اسے (انگلی سے یا چاٹ کر) صاف کرتا ہے تو وہ پیالہ اس کے لیے بخشش طلب کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7423
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال ام عاصم جدة ابي اليمان المعلي، أخرجه ابن ماجه: 3271، 3272، والترمذي: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21001»