الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
باب مَا يُسْتَحِبُّ فِي طَبخ اللحم ونهيه وتكثير الْمِرَقِ وَعَدْمِ تَعَاطِيْهِ حَارًا باب: گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7412
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم گوشت پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈال کر شوربا وافر بنایا کرو، اس سے پڑوسیوں کو دینے کے لیے بھی کافی گنجائش نکل آتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر پڑوسیوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی حکم بجا آوری کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ گوشت وغیرہ یا جو ہنڈیا بھی شوربا والی ہو اس میں پانی ڈال کر زیادہ شوربا بنا لیا جائے اور اگر ہمسایہ مانگنے آئے یا نہ بھی مانگنے آئے تو اسے دیا جائے یہ حسن سلوک معاشرتی زندگی میں ایک سنہری اصول ہے۔