حدیث نمبر: 7411
عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفہ والوں میں سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن روٹی منگوائی، اس کے ٹکڑے کئے، ان کو ایک پیالہ میں ڈالا، پھر اس میں پانی ،چربی اور چھنا ہوا آٹا ڈالا، پھر اسے خوب مکس کیا، پھر آپ نے اس کو کناروں سے ملا کر اونچا ڈھیر سا بنا دیا اور پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ اور اپنے سمیت دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور اس پیالہ کی نچلی جانب سے کھاؤ، اس کی اوپر والی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر والی جانب سے برکت نازل ہوتی ہے، پھر انہوں نے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے مختلف آداب کا بیان ہے، پلیٹ کی اس طرف سے کھانا کھانا شروع کیا جائے، جو آدمی کے سامنے ہو اور درمیان سے بھی کھانا شروع نہ کیا جائے، وگرنہ بے برکتی ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7411
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 3276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16102»