الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنِ الْقِرَانِ وَالنُّهْبَةِ وَالنَّفْخِ فِي الطَّعَامِ والشراب باب: ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
حَدَّثَنَا جَبَلَةُ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ وَفِي لَفْظٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ۔ جبلہ بن سحیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔