حدیث نمبر: 7406
حَدَّثَنَا جَبَلَةُ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ وَفِي لَفْظٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ جبلہ بن سحیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ امام شعبہ کا اپنا گمان ہے، اس سے حدیث کا مرفوع ہونا متاثر نہیں ہو گا، کیونکہ امام سفیان نے دوسری روایت کے مطابق یہ حدیث اس طرح بیان کی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَقْرِنَ الرَّجُلُ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ حَتّٰی یَسْتَأْذِنَ اَصْحَابَہٗ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، الا یہ کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7406
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5435»