حدیث نمبر: 7399
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتِ اللُّقْمَةُ فَقَالَ لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَكِ يَمِينًا أَوْ قَالَ قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمِينَكِ قَالَ فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن محمد اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں اپنے بائیں ہاتھ سے کھا رہی تھی، جبکہ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خاتون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا اور میرا لقمہ گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دایاں ہاتھ دیا ہے یا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں ہاتھ درست بنایا ہے۔ پس میرا بائیاں ہاتھ دائیں ہاتھ میں بدل گیا (یعنی میں نے آسانی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا شروع کر دیا)، وہ کہتی ہیں: پس میں نے اس کے بعد کبھی بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «عبد الله بن محمد، ھكذا وقع غير منسوب، ولم نعرفه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23612»