حدیث نمبر: 7390
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُرِّبَ طَعَامًا فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ قُلْنَا كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، میں نے ایسا کوئی کھانا نہیں دیکھا کہ کوئی کھانا شروع میں اس سے زیادہ برکت والا ہو، لیکن اس کے آخر میں اس سے کم برکت والا کھانا نہیں دیکھا، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا: وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے اسے کھانا شروع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا، لیکن بعد میں جو لوگ کھانے کے لیے بیٹھے، انہوں نے بسم اللہ نہیں کہی، سو ان کے ساتھ شیطان بیٹھ گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7390
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، راشد اليافعي و حبيب بن اوس كلاھما ليس له الا راو واحد، وابن لھيعة سييء الحفظ، أخرجه الترمذي في الشمائل : 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23919»