الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَاب مَا جَاء فِي التَّسْمِيةِ عَلَى الْأَكْلِ وَالدُّعَاءِ فِي أَوَّلَهِ وَآخِرِه وَإِنَّ أَشْرَفَ الْقَوْمِ هُوَ الَّذِي يَبْدَأ بالاكل باب: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُرِّبَ طَعَامًا فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ قُلْنَا كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، میں نے ایسا کوئی کھانا نہیں دیکھا کہ کوئی کھانا شروع میں اس سے زیادہ برکت والا ہو، لیکن اس کے آخر میں اس سے کم برکت والا کھانا نہیں دیکھا، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا: وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے اسے کھانا شروع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا، لیکن بعد میں جو لوگ کھانے کے لیے بیٹھے، انہوں نے بسم اللہ نہیں کہی، سو ان کے ساتھ شیطان بیٹھ گیا۔