الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَاب مَا جَاء فِي التَّسْمِيةِ عَلَى الْأَكْلِ وَالدُّعَاءِ فِي أَوَّلَهِ وَآخِرِه وَإِنَّ أَشْرَفَ الْقَوْمِ هُوَ الَّذِي يَبْدَأ بالاكل باب: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
حدیث نمبر: 7388
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام اس وقت تک کھانا کھانا شروع نہ کرتے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ فرماتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام کے اذہان و قلوب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کھانا کھانا شروع نہیں کرتے تھے۔