حدیث نمبر: 7385
عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا ابْنَ أَعْبُدَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ قَالَ قُلْتُ وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ تَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا قَالَ وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ قَالَ قُلْتُ وَمَا شُكْرُهُ قَالَ تَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن اعبد کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن اعبد تجھے معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ ہی بیان کر دیں کہ اس کا کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا: جب تو کھانا کھائے تو کہے: بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا (بسم اللہ! اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے جو تونے ہمیں دیا ہے ) پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا تجھے یہ پتہ ہے جب کھانے سے فراغت پائیں تو کیا کہنا ہے کہ اس کا شکر ادا ہو جائے، میں نے کہا: اس کے شکر کے لیے کیا کہنا چاہے؟ انھوں نے کہا: تو یہ کہا کر: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا۔)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7385
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة علي بن اعبد، وابوالورد ليس بالمعروف، أخرجه الطبراني في الدعائ : 235، وابن ابي شيبة: 8/ 310 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1313»