الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَاب مَا جَاء فِي التَّسْمِيةِ عَلَى الْأَكْلِ وَالدُّعَاءِ فِي أَوَّلَهِ وَآخِرِه وَإِنَّ أَشْرَفَ الْقَوْمِ هُوَ الَّذِي يَبْدَأ بالاكل باب: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا ابْنَ أَعْبُدَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ قَالَ قُلْتُ وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ تَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا قَالَ وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ قَالَ قُلْتُ وَمَا شُكْرُهُ قَالَ تَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔ ابن اعبد کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن اعبد تجھے معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ ہی بیان کر دیں کہ اس کا کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا: جب تو کھانا کھائے تو کہے: بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا (بسم اللہ! اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے جو تونے ہمیں دیا ہے ) پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا تجھے یہ پتہ ہے جب کھانے سے فراغت پائیں تو کیا کہنا ہے کہ اس کا شکر ادا ہو جائے، میں نے کہا: اس کے شکر کے لیے کیا کہنا چاہے؟ انھوں نے کہا: تو یہ کہا کر: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا۔)