الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
باد مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْيَدَيْنِ قَبْلِ الْأَكْلِ وَبَعْدَهُ وجو از تركِهِ باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7382
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ قضائے حاجت والی جگہ میں گئے اور قضائے حاجت کر کے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا لایا گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نماز تو نہیں پڑھنی کہ وضو کروں، مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نے نماز پڑھنی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ صحیحہ کا معنی و مفہوم واضح ہے، اگر ظاہری طور پر پاک ہوں اور ان پر کوئی گندگی لگی ہوئی نہ ہو تو کھانے پینے کے لیے ان کو دھو لینا مسلمان کا طبعی مسئلہ ہے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ جب آدمی جنابت کی حالت میں ہو تو درج ذیل حدیث پر عمل کرے: