الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ الْأَكْلِ باب: زیادہ کھانے کی مذمت
حدیث نمبر: 7377
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں بسیارخوری اور زیادہ شکم پروری سے روکا گیا ہے۔ کم خوری سے جہاں اس حدیث کے ساتھ موافقت ہوتی ہے، وہاں صحت و توانائی بھی برقرار رہتی ہے۔ اگر تمام لوگ اس حدیث پر عمل کرنے پر متفق ہو جائیں تو حکماء و اطبّاء کا اتفاق ہے کہ بیماریاں خود بخود دم توڑ جائیں گی۔