الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ الْأَكْلِ باب: زیادہ کھانے کی مذمت
حدیث نمبر: 7375
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَافِرٌ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ثُمَّ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا قَلِيلًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت وہ کافر تھا اور بسیار خور تھا، پھر جب وہ مسلمان ہوا تو کم کھانا کھانے لگا، جب اس نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔