حدیث نمبر: 7364
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ مَا مِنْ غَدَاءٍ أَوْ عَشَاءٍ شَكَّ طَلْحَةُ قَالَ فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ قَالَ مَا مِنْ إِدْمٍ قَالُوا لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ قَالَ أَدْنِيهِ فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْإِدْمُ هُوَ قَالَ جَابِرٌ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ طَلْحَةُ مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیئے، جب گھرپہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کوئی دوپہر کا یا شام کا کھانا ہے؟ انہوں نے روٹی کے چند ٹکڑے دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سالن نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، سرکہ تو بہترین سالن ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اس وقت سے لے کر میں نے سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا اور سیدنا طلحہ بن نافع رحمہ اللہ نے کہا: جب سے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سرکہ کے بارے میں یہ بات سنی، اس وقت سے میں نے بھی سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … سالن سے مراد وہ چیز ہے، جس کے ذریعے روٹی کو چبانا اور اس کو گلے سے اتارنا آسان ہو جاتا ہے، وہ سرکہ ہو یا اچار وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مختصرا مسلم: 2052 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15367»