حدیث نمبر: 7354
عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ فَقَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتَّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک بکری کا تحفہ دیا گیا، اسے ذبح کرکے اس کا گوشت ہنڈیا میں رکھ کر پکایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! اس کی دستی مجھے پکڑا دو۔ پس میں نے پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کی دوسری دستی بھی مجھے دے دو۔ میں نے دوسری دستی بھی پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں تھیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک خاموش رہتا تو مجھے دستیاں پکڑاتا ہی رہتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگواکر اپنے منہ مبارک میں گھمایا اور انگلیاں دھوئیں پھرکھڑے ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور ہمارے پاس ٹھنڈا گوشت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کھایا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور دوسری نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره في قصة مناولة الذراع، وھذا اسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وابو جعفر الرازي مختلف فيه، وقد اختلف عنه في ھذا الاسناد، أخرجه بن حبان: 1149، 5244، والطبراني في الكبير : 986 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27737»