حدیث نمبر: 7349
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ قَالَ إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا وَلَمْ تَغْتَبِقُوا وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ وہاں بھوک کا غلبہ رہتا ہے، ہمارے لیے مردار میں سے کیا کیا حلال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نہ تمہیں صبح کو کچھ کھانے کو ملے،نہ شام کو کچھ ملے اور نہ تمہیں کوئی ترکاری ملے تو پھر تم مردار کھا سکتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیَتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … تم پر مردہ اور (بہایا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوادوسروں کا نام پکارا گیا ہو، حرام ہے، پھر جو مجبور ہو جائے، اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ تعالی بہت بخشش کرنے والا بہت مہربان ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7349
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه وشواھده، أخرجه البيھقي: 9/ 356، والدارمي: 1996، والحاكم: 4/ 125 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22243»