حدیث نمبر: 7342
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قُلْتُ لِأَبِي الشَّعْثَاءِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ وَقَرَأَ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ [الأنعام: 145] يَا عَمْرُو أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ يَعْنِي يَقُولُ أَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا الْبَحْرُ بْنُ عَبَّاسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے ابو شعثاء سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا اے عمرو! اس سے علم کے سمندر سیدنا ابن عباس انکار کرتے ہیں اور انھوں نے یہ آیت پڑھی: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ} … کہہ دو میں جوکھانے والے پرکھانا حرام پاتا ہوں، وہ صرف مردار، بہایا ہوا خون، یا خنزیر کا گوشت ہے۔ اس کا علم کے سمندر نے انکار کیا ہے کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی تائید حکم بن عمرو غفاری نے بھی کی ہے کہ عباس کے بیٹے علم کے سمندر نے گدھے کے گوشت کوحرام قرار نہیں دیا۔

وضاحت:
فوائد: … جس چیز کا حرام ہونا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہو گا، اس کو اس حدیث میں مذکورہ آیت کی روشنی میں حلال ہی سمجھا جائے گا، چونکہ بہت ساری احادیث میں گدھے کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے گدھا حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7342
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18016»