الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي العُمر الأهلية والجلالة باب: گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 7341
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے بستی کے باہر گدھوں کو پایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہنڈیوں میں جو کچھ بھی ہے، سب الٹ دو۔ جب میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے کہا: ان کے گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سعید بن جبیر کا یہ کہنا کہ گدھوں کو اس لیے حرام کیا گیا کہ یہ غلاظت کھاتے ہیں، یہ ان کی ذاتی رائے ہے، اللہ تعالی اور اس کے رسول نے گھریلو گدھوں کے گندہ ہونے کی وجہ سے ان کو حرام قرار دیا ہے۔