حدیث نمبر: 7327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ فَقَالُوا بِفَارِسَ وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى فَزَادَ فِيهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پنیر پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں تیار کیا گیا؟ انہوں نے کہا: یہ فارس کے علاقہ میں تیار کیا گیا اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار کا گوشت ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھری سے کاٹو اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لو۔ دوسری مرتبہ جب شریک نے روایت کی تو یہ اضافہ کیا: لوگوں نے اسے لاٹھیوں کے تیزدھار حصہ کے ساتھ کاٹنا شروع کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اُتِیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِجُبْنَۃٍ فِیْ تَبُوْکَ، فَدَعَا بِسِکِّیْنٍ فَسَمّٰی وَقَطَعَ۔ … تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پنیر کا ٹکڑا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری منگوائی اور اللہ تعالی کا نام لے کر اس کو کاٹا۔ (ابوداود: ۳۸۱۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7327
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 11807، والبيھقي: 10/ 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2755»