الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ باب: اہل کتاب کے کھانے کا حکم
حدیث نمبر: 7325
حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ہلب طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ایک کھانا ایسا ہے، جس سے میں دل میں تنگی محسوس کرتا ہوں، دوسری روایت میں ہے: اس نے کہا: میں نے عیسائیوں کے کھانا کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے کھانے کے بارے میں تیرے سینے میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہونا چاہیے، جس میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیزیں شریعت کی روشنی میں حلال ہیں، ان کو کسی وسوسے اور شبہے کی بنا پر نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا اہل نصرانیت کی روش تھی۔