حدیث نمبر: 7321
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلْتُ عَلَيْهَا فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ هَذِهِ الْبُقُولِ فَقَرَّبُوهُ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي يَعْنِي الْمَلَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ ام ایوب انصاری رضی اللہ عنہا ، جن کے گھر ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے، کے ہاں ٹھہرا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پرتکلیف کھانا دیا، جس میں یہ سبزیاں پیاز اور لہسن بھی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کھانا پسند نہ کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم کھا لو، میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنے ہم نشیں فرشتے کو تکلیف میں مبتلا نہ کر دوں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ ثُوْمًا اَوْ بَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِیْ بَیْتِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … جو آدمی (کچا) لہسن اور (کچا) پیاز کھائے وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ اس حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا حدیث کا یہ مفہوم بیان کیا جائے گا کہ مسجد میں جانے کا وقت اتنا دور تھا کہ اس وقت تک صحابہ کرام کے منہ سے لہسن کی بو ختم ہو چکی ہو گی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی ایسی چیز کھانا مناسب نہ سمجھی اور وجہ بھی بیان کر دی۔اگر مسجد میں جانے کا وقت قریب ہو تو اس قسم کی چیز کھانا منع ہے۔ دراصل وہ لہسن پکا ہوا تھا جس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر آپ کے پاس چونکہ فرشتہ آتا تھا اس لیے آپ پکے ہوئے لہسن سے بھی بچتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7321
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 1810، وابن ماجه: 3364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27988»