حدیث نمبر: 7308
عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا [الأنعام: 145] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَبِيثٌ مِنَ الْخَبَائِثِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ كَانَ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ كَمَا قَالَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ نمیلہ فزاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے سیہہ کے حکم کے بارے میں پوچھا گیا، انھوں نے جواباً یہ آیت پڑھی: {قُلْ لَآ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا … } … کہہ دو کہ جو میری طرف وحی کی گئی ہے، اس میں حرام صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو یہ پلید ہے یا فسق ہے یا جو غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے پاس بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اس سیہہ کا ذکر کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ خبیث جانوروں میں ایک خبیث جانور ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فرمایا ہے تو پھر تو اسی طرح ہے جس طرح آپ نے فرمایا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیہی ایک چھوٹا سا کانٹے دار جانور ہوتا ہے، کوئی ایسی صحیح دلیل نہیں ہے، جو اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأطعمة / حدیث: 7308
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عيسي بن نميلة الفزاري وأبيه، ولابھام الراوي عن ابي ھريرة، أخرجه ابوداود: 3799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8941»