الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُعِ باب: بجو کے حلال ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7305
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الضَّبُعِ فَكَرِهَهَا فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ قَالَ لَا يَعْلَمُونَ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے بجو کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے کہا: آپ کی قوم تو کھاتی ہے، انھوں نے کہا: ان کو علم نہیں ہے، ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … بجو حلال جانور ہے، یہ قبروں کو اکھاڑنے میں مشہور ہے، کیونکہ اس کو بندے کا گوشت بہت پسند ہے، اس کی حیران کن صفت یہ ہے کہ یہ ایک سال مذکر رہتا ہے اور ایک سال مؤنث، مذکر کی حالت میں حاملہ ہو جاتا ہے اور مؤنث کی حالت میں بچہ جنم دیتا ہے۔