الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ فِي أَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَعْيَانِ وَالْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ إِلَى أَنْ يُرِدَ مَنْعُ أَوْ الْزَام باب: اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے¤یا فرض نہ قرار دیا جائے
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [آل عمران: 97] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [المائدة: 101] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} (سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔