الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ فِي أَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَعْيَانِ وَالْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ إِلَى أَنْ يُرِدَ مَنْعُ أَوْ الْزَام باب: اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے¤یا فرض نہ قرار دیا جائے
حدیث نمبر: 7283
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ چیز بنی تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے کثرت سے سوال کرتے تھے اور پھر ان پر اختلاف کیا کرتے تھے، پس میں جس چیز سے تمہیں منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا تمہیں حکم دے دوں، اپنی طاقت کے مطابق اسے پورا کرو۔