الفتح الربانی
كتاب الأطعمة— کھانوں کا بیان
بَابُ فِي أَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَعْيَانِ وَالْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ إِلَى أَنْ يُرِدَ مَنْعُ أَوْ الْزَام باب: اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے¤یا فرض نہ قرار دیا جائے
حدیث نمبر: 7281
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے، جو کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہے اور اس کے بارے میں اتنا کریدتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام کر دیا جاتا ہے۔