الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَاب فِيمَا يَجِبُ فِيهِ التعديل بين الزَّوْجَاتِ وَمَا لَا يُحِبُّ باب: بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
حدیث نمبر: 7145
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجْعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … جس آدمی نے ایک سے زائد شادیاں کر رکھی ہوں، اس پر فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل کرے، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَعُوْلُوْا} (النسائ:۳) اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔ زیادہ بیویوں میں انصاف کرنا اتنا اہم مرحلہ ہے کہ اللہ تعالی برابری نہ کرسکنے کے خوف کی وجہ سے ایک بیوییا لونڈی کا حکم دے رہے ہیں۔ کسی ایک بیوی کی طرف طبعی میلان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عدل و انصاف کے تقاضے متأثر نہیں ہونے چاہئیں۔