الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَاب فِيمَا يَجِبُ فِيهِ التعديل بين الزَّوْجَاتِ وَمَا لَا يُحِبُّ باب: بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان
حدیث نمبر: 7142
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔عطا کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ عضی اللہ عنہا کے جنازے کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے ، انھوں نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھاؤ تو زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو اٹھانا ، تاکہ ان کی کرامت متاثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (9) بیویاں تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔ عطا کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی ، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔