الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
باب فضل إحسان العِشْرَةِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ مَعَ الزوجة باب: بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 7134
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفَهُمْ بِأَهْلِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کامل ترین ایمان والے وہ ہیں جو بہترین اخلاق والے اور اپنی بیویوں پر لطف و کرم کرنے والے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … کسی آدمی کے حسن اخلاق کا سب سے زیادہ علم اس کی بیوی کو ہوتا ہے، آج کل لوگ باہر کے دوستوں اور یاروںسے وفا کرنے میں ہی مصروف رہتے ہیں، دوست ایک آدمی کی بڑی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اگر اس کی بیوی سے اس کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اس کے حق میں ایک جملہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتی،یہ اچھے لوگوں کا رویہ نہیں ہے، کسی آدمی کے اخلاق کے اچھایا برا ہونے کی شہادت اس کی بیوی دے گی۔
عملی طور پر بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ شام کا کھانا کھا کر اپنے دوستوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رات ایک دو بجے واپس آتے ہیں، اس وقت بیوی بچے گہری نیند سوچکے ہوتے ہیں، پھر جب صبح کے وقت بیوی بچے اٹھتے ہیں اور بیوی بچوں کو تیار کر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتی ہے تو اس وقت گھر کا سربراہ سویا ہوا ہوتا ہے، یہ راہِ اعتدال سے منحرف رویہ ہے اور اس طرح سے گھر کے افراد کی اچھی تربیت نہیں ہوتی۔
عملی طور پر بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ شام کا کھانا کھا کر اپنے دوستوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رات ایک دو بجے واپس آتے ہیں، اس وقت بیوی بچے گہری نیند سوچکے ہوتے ہیں، پھر جب صبح کے وقت بیوی بچے اٹھتے ہیں اور بیوی بچوں کو تیار کر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتی ہے تو اس وقت گھر کا سربراہ سویا ہوا ہوتا ہے، یہ راہِ اعتدال سے منحرف رویہ ہے اور اس طرح سے گھر کے افراد کی اچھی تربیت نہیں ہوتی۔