الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
باب فضل إحسان العِشْرَةِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ مَعَ الزوجة باب: بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ وَتَنَاوَلَهَا أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا أَنْ تَرَيْنَ أَنِّي قَدْ حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر آنے کی اجازت طلب کی، ساتھ ہی انھوں نے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بلند آواز میں بول رہی تھیں، پس انھوں نے اپنی بیٹی سے کہا: ام رومان کی بیٹی! کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے؟پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان حائل ہو گئے، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ کو راضی کرنے کے لیے فرمانے لگے: کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ میں تجھے بچانے کے لیے تیرے اور تیرے باپ کے درمیان حائل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہنس رہے تھے، پس انھوں نے اجازت طلب کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے صلح والے ماحول میں بھی داخل کرو، جیسا کہ آپ نے مجھے لڑائی کے ماحول میں داخل کیا تھا۔