حدیث نمبر: 7117
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ حَرْثُكَ ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو ، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔

وضاحت:
فوائد: … یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آئو اس سے مراد عورت کو لٹانے کی کیفیت ہے، وگرنہ جماع کے لیے وہی مقام استعمال کیا جائے جو اللہ تعالی نے اس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، پہلے یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ بیوی کو پشت سے استعمال کرنا حرام ہے، البتہ پچھلی طرف سے حق زوجیت ادا کیا جا سکتا ہے۔
اس سے مکروہ باتیں نہ کرو جیسے اللہ تعالی تجھے بدصورت کرے، تیرا برا بنائے، تجھے خیر و بھلائی سے دور کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7117
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2192، 2424 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20283»