الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ باب: بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجَهَا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولَ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَفِي لَفْظٍ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ خَيْرًا قَطُّ۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائی دیکھی ہی نہیں۔