حدیث نمبر: 7113
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجَهَا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولَ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَفِي لَفْظٍ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ خَيْرًا قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائی دیکھی ہی نہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28113»