حدیث نمبر: 7111
عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَنْتِ لَهُ قَالَتْ مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ قَالَ انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی بیوی کے جنت یا جہنم میں جانے کا بڑا سبب اس کا خاوند ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7111
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه النسائي في الكبري : 8965، وابن ابي شيبة: 4/ 304، والبيھقي: 7/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19212»