الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ باب: بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَنْتِ لَهُ قَالَتْ مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ قَالَ انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ۔ سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔