حدیث نمبر: 7104
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ فَقَالَ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے، ایک اونٹ آیا اور آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا،یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر جانور اور درخت آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی یعنی اپنے نبی کی عزت کرو، اگر میں نے کسی انسان کو دوسرے انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، خاوند کا بیوی پر اتنا حق ہے کہ اگر وہ حکم دے کہ اس کی بیوی زرد پہاڑ سے سیاہ پہاڑ کی طرف اور سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف پتھروں کو منتقل کرے، تو اس کے شایان شان یہی بات ہو گی کہ وہ ایسا ہی کر گزرے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو یہ حکم دے کہ وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک پتھر یا ایک ٹیلے سے دوسرے ٹیلے تک ریت منتقل کرے تو اس کو ایسے ہی کرنا چاہیے، مراد یہ ہے کہ بیوی کو اپنے خاوند کی حد درجہ اطاعت کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7104
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان الا قوله ’’وَلَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا‘‘، فانه جيد لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24975»