حدیث نمبر: 7101
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خاوند موجود ہو تو اس کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دے اور عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرے گی ، اس کو آدھا اجر ملے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس سے مراد نفلی روزہ ہے، لیکن اگر حکم کی غرض و غایت کو دیکھا جائے تو فرضی روزوں کی قضا کا بھییہی حکم ہو گا، یعنی رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں بھی خاتون کو اپنے خاوند سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
اس خرچ سے مراد وہ چیز ہے، جس کا عام طور پر صدقہ دے دیا جاتا ہو، مثلا پانچ دس روپے، لپ بھر آٹا یا گندم اور روٹی سالن وغیرہ، قیمتی چیز کو خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کیا جا سکتا،نیز گھر کے حالات کو دیکھ کر قیمتی چیز کا اندازہ لگایا
جائے گا اور اگر خاوند وضاحت کے ساتھ معمولی چیز کو صدقہ کرنے سے بھی منع کر دے تو بیوی کو کوئی اختیار نہیںرہے گا۔
نفلی روزہ عظیم عبادت ہے، اس کا بڑا اجر وثواب ہے، لیکن خاوند کے حق کو اس پر مقدم رکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2066، 5192، 5360، ومسلم: 1026، وابوداود!: 1687، 2458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8173»