الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ إِثْنَانِ الْمَرْأَةِ فِي دُبُرِهَا وَجَوَازِ التَّحْبِيْبِ وَهُوَ اتْيَانُهَا مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا باب: بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7099
- عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا؟ فَقَالَ قَتَادَةُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: هِيَ اللُّوْطِيَّةُ الصُّغْرَى ، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ وَسَّاجِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : وَهَلْ يَفْعَلُ ذَالِكَ إِلَّا كَافِرٌ (مسند احمد : 6968)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام قتادہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو پشت سے استعمال کرتا ہے،انھوں نے کہا: ہمیں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹے درجے کی لواطت ہے۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کام تو صرف کافر ہی کر سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیویوں کی پشت کو استعمال کرنا حرام ہے، اس کو غیر فطری جماع کہتے ہیں، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جماع کے لیے بیوی کے جس عضو کو وجود دیا ہے، اسی کو ہی استعمال کرنا چاہیے، لٹانے کی صورت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۱۷)۔