الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
باب نهي الزوجين عن التحدث بما يجرى حال الوقاع باب: میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقُلْتُ إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ لَيَقُلْنَ وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِثْلُ الشَّيْطَانِ لَقِيَ شَيْطَانَةً فِي طَرِيقٍ فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مرد اور عورتیں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتا ہے، وہ اس کو باہر بھی بیان کرتا رہے، اسی طرح بیوی اپنے خاوند کے ساتھ جو کچھ کرتی ہے، وہ اس کو باہر بیان کرتی پھرے۔ لوگ خاموش ہو گئے، میں (اسماء) نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم ہے، عورتیں بھی اس طرح کرتی ہیں اور مرد بھی ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، اس کی مثال بالکل اس شیطان کی طرح ہے، جو کسی راستے میں شیطاننی کو ملا اور اس نے وہیں اس سے کاروائی شروع کر دی اور اس کے اوپر چڑھ گیا، جبکہ لوگ دیکھ رہے تھے۔