الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ الْغِيْلَةِ وَالرُّحْصَةِ فِي الْعَزْلِ لاجل ذلِكَ باب: غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان¤غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7089
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا يُقَدَّرُ فِي الرَّحِمِ فَسَيَكُونُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: اس کی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو بیشک عزل نہ کر، کیونکہ اس چیز نے فارس اور روم کو کوئی نقصان نہیں دیا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ اگر تو بچے کے نقصان کے نظریے کو سامنے رکھ کر عزل کرتا ہے تو بیشک نہ کیا کر، کیونکہ فارسی اور رومی لوگ ایسا عمل کرتے ہیں، جبکہ ان کے شیر خوار بچوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔