الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهَةِ الْغِيْلَةِ وَالرُّحْصَةِ فِي الْعَزْلِ لاجل ذلِكَ باب: غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان¤غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7088
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي قَالَ لِمَ قَالَ شَفَقَةً عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالَ إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ فَارِسَ وَلَا الرُّومَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ سے روک دوں، حتیٰ کہ مجھے یہ بات یاد آئی کہ فارس اورروم والے غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دودھ پینے والے بچے کو اس سے نقصان ہو جائے۔
طبیب لوگ کہتے ہیں کہ ایسا دودھ بیماری ہوتا ہے اور عرب لوگ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے بچتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ غیلہ سے اہل فارس اور اہل روم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔
طبیب لوگ کہتے ہیں کہ ایسا دودھ بیماری ہوتا ہے اور عرب لوگ اس عمل کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے بچتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ غیلہ سے اہل فارس اور اہل روم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔