الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ فِي الرَّحْصَةِ فِي الْعَزْلِ باب: عزل کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 7085
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي أَمَةً وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا وَأَنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ وَإِنَّ الْيَهُودَ تَزْعَمُ أَنَّهَا الْمَوْؤُودَةُ الصُّغْرَى قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَهُ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَرُدَّهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میری ایک لونڈی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو، اس لیے میں اس سے عزل کرتا ہوں اور ان یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ چھوٹا زندہ درگور کرنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودی جھوٹ بولتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو تو اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۷۰۷۸)کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزل کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا قرار دیا، جبکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے اسی خیال کی تردید کر رہے ہیں۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔
حافظ ابن قیم نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے جس خیال کی تردید کی ہے، اس سے مراد ان کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عزل کی صورت میں حمل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور وہ اس کو قطعِ نسل کے قائم مقام سمجھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر اللہ تعالی چاہے تو عزل کے باوجود حمل کا امکان ہو سکتا ہے، جب اللہ تعالی اس کی تخلیق کو نہیں چاہے گا تو یہ فی الحقیقت زندہ درگور کرنا نہیں ہو گا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا اس لیے قرار دیا کہ آدمی حمل سے بچنے کے لیے عزل کرتا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس ارادے کو زندہ درگور کرنے کے قائم مقام قرار دیا۔