حدیث نمبر: 7079
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو صرمہ مازنی اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوہ نبی مصطلق میں قیدی حاصل کیے،یہ وہی غزوہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کو حاصل کیا تھا، ہم میں سے بعض افراداہل (بیوی) بنانا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ تھا کہ وہ لونڈیوں سے ہم بستری کر کے ان کو فروخت کر دیں، اس لیے ہم نے غزل کے بارے میں تکرار کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عزل نہ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے قیامت تک جو کچھ پیدا کرنا ہے، اس نے اس کا اندازہ کر لیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح،أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 9089، والبيھقي: 10/ 347، وابن ابي شيبة: 4/ 222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11624»