الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْهُ وَكَرَاهِيَهِ باب: عزل کا بیان اور اس کے بارے میں منقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7078
عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا ، جو کہ پہلی مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غزل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے جس نطفے کو بچے کی تخلیق کے لیے تیار کیا، اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی کوشش کرنا اور نطفے کو ضائع کر دینا، گویامخفی انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ حدیث جواز والی احادیث کے مقابلے میں عزل کی ممانعت پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ اعلانیہ طور پر بچوں کو زندہ درگور کرنا حرام ہے، اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ مذکورہ بالا خفیہ طریقے سے بھی ایسا کرنا ممنوع ہے، جبکہ اگلے باب میںجواز کے دلائل موجود ہیں۔