حدیث نمبر: 7073
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا قُلْتُ فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا قَالَ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ وَفِي رِوَايَةٍ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیّدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے ستر کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے ستر) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔

وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت سے اپنا پردہ کرنے کا اندازہ ہو جاتا ہے: سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِV رَأٰی رَجُلًا یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِیمٌ حَیِیٌّ سِتِّیرٌیُحِبُّ الْحَیَاء َ وَالسَّتْرَ فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ’’بیشک اللہ تعالی بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے اور حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی آدمی غسل کرے تو پردے میں کرے۔‘‘
(ابوداود: ۴۰۱۲، نسائی: ۴۰۶)
کوئی ہو یا نہ ہو، کسی اوٹ میںیا پردے والے مقامات کا پردہ کر کے غسل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4017، والترمذي: 1920، 2769، وابن ماجه: 1920، والجملة الاخيرة اي ’’فوضعھا علي فرجه‘‘ اسنادھا حسن ايضا و أخرجھا عبد الرزاق: 1106، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 989 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20034، 20035)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20287، 20296»