حدیث نمبر: 7065
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ بْنِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِي فَقَعَدَ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِي هَذَا وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي الْيَوْمِ وَفِي غَدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ کے مطابق شادی کے موقع پر کوئی شغل وغیرہ لگ جانا چاہیے، مثلا دف بجا کر یا گاہ کر جائز کلام پڑھنا یا جائز کھیل کود کا اہتمام کرنا۔
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4001، 5147 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27561»