حدیث نمبر: 7064
عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ قَالَ بِئْسَمَا صَنَعْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ وَفِي رِوَايَةٍ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو بلج کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی سے کہا: میں نے دو عورتوں سے شادی کی ہے اور میرے لئے کوئی دف نہیں بجائی گئی، انہوں نے کہا: تو نے برا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز ہے۔ یعنی دف بجانا،ایک روایت میں ہے: حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور آواز نکالنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ہماری شریعت میں نکاح کے موقع پر ولی اور دولہا دلہن کی رضامندی کے بعد کم از کم دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں جو چیز بیان کر رہے ہیں،یہ استحبابی امور ہیں،یعنی بہتر یہ ہے کہ شادی کے موقع پر تھوڑا بہت شغل لگ جائے، دف بجایا جائے اور جائز کلام گا کر پڑ لیا جائے، تاکہ دور دور تک نکاح کی خبر بھی پہنچ جائے اور لوگ بھی خوش ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 127، والترمذي: 1088، وابن ماجه: 1896 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:18280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18469»