الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
باب اعلانِ النِّكَاحِ وَاللَّهْوِ فِيهِ وَالضَّرْبِ بِالدُّتِ باب: نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7063
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ أَهْدَيْتُمُ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّيهِمْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا تم نے بچی کو اس کے گھر کی طرف رخصت کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں بھیجا، جو گا کر اس طرح کہتے: ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، پس تم ہم کو سلام کہو، ہم تم کو سلام کہتے ہیں، کیونکہ انصاری ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کی غزل کو پسند کرتے ہیں۔