الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَنْ دُعِيَ فَرَأَى مُنْكَرًا فَلْيُنْكِرْهُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ باب: اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
حدیث نمبر: 7051
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب نوشی کی جاتی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے مراد یہ نہیں کہ صرف شراب نوشی کی صورت میں نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اصل مدّعا اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، جہاں نافرمانی ہو رہی ہو، اس کو روکا جائے، نہیں تو اس مجلس کو ترک کر دیا جائے۔