حدیث نمبر: 7048
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ قَتَادَةُ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرَ بْنَ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلِيمَةُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِي مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بنو ثقیف کا ایک کانا آدمی تھا، امام قتادہ کہتے ہیں: اس کو معروف کہا جاتا ہے اور اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تھا تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس کا نام کیا تھا، بہرحال اس آدمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے دن کاولیمہ حق ہے، دوسرے دن کا معروف رواج ہے اور تیسرے دن کا ولیمہ شہرت اور نمود ونمائش ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معروف سے مراد وہ طریقہ ہے، جو لوگوں کے ہاں رواج پا چکا ہے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال دعوتوں کا سلسلہ تکلف اور ریاکاری سے پاک ہونا چاہیے اور ان پر مذہبی رنگ
غالب ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7048
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن عثمان الثقفي، وزھير بن عثمان مختلف في صحبته، أخرجه ابوداود: 3745 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20591»