الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابُ مَا يُصْنَعُ إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ وَحُكْمِ الْإِجَابِةِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي وَالثَّالِثِ باب: جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7047
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا فَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حمید بن عبد الرحمن، ایک صحابی رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے اکٹھے آجائیں، تو ان میں سے جو زیادہ قریبی دروازے والا ہو، اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ زیادہ قریبی دروازے والا زیادہ قریبی پڑوسی ہے، اور اگر ان میں سے ایک پہلے پہنچ جائے تو پہلے آ جانے والی کی دعوت قبول کر۔
وضاحت:
فوائد: … قریبی داعی کو ترجیح دی جائے۔
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)
اگر دو اکٹھے دعوت دیں تو قریبی کو ترجیح دی جائے اور اگر کوئی پہلے آجائے تو پھر اس کی دعوت قبول کی جائے خواہ وہ دور کا کیوں نہ ہو۔ (عبداللہ رفیق)