حدیث نمبر: 7046
عَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ الْيَمَانِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَاهُمْ فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَمْسَةٌ مِنْهُمْ أَنَا أَحَدُهُمْ فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو غادیہ یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نافرمان ہو۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کی دعوت قبول کرنا حق ہے، خاص طور پر ولیمہ کی دعوت، اس لیے باہتمام اس حق کو ادا کرنا چاہیے، وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہو گی۔
بعض احادیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی وجہ سے دعوت قبول نہ کی جائے، لیکن دعوت کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا بھی جائز ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا (دسترخوان پر) رکھا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دَعَاکَ اَخُوْکَ وَ تَکَلَّفَ لَکَ فَصُمْ مَکَانَہٗاِنْشِئْتَ۔)) … ’’تیرے بھائی نے تجھے دعوت دی اور تیرے لیے تکلف کیا، (اس لیے روزہ توڑ دے) اور اگر چاہے تو اس کی جگہ پر ایک اور روزہ رکھ لینا۔‘‘ (سنن بیہقی، قال الحافظ ابن حجر: اسنادہ حسن)
اگر واقعی نظر آ رہا ہے کہ داعی نے بڑے تکلف اور رغبت سے کھانا تیار کیا ہے تو نفلی روزہ توڑ دینا چاہیے، اگر اجر و ثواب ہی مطلوب ہو تو دوبارہ روزہ رکھ لیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7046
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو غادية اليمامي، جھله ابو زرعة العراقي وابن حجر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7871»