حدیث نمبر: 7044
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَفِي لَفْظٍ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ولیمے کا کھانا بدترین کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جاتا ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ یہ دعوت حق ہے، جس نے اس کو چھوڑا اس نے نافرمانی کی، معمر راوی کے الفاظ یہ تھے: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت موقوف ہے، صحیح مسلم کی جو روایت مرفوع ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِیُمْنَعُہَا مَنْ یَأْتِیہَا وَیُدْعَی إِلَیْہَا مَنْ یَأْبَاہَا وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) … ’’بدترین کھانا ولیمے کا کھانا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، ان کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکار
کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے، بہرحال جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘(صحیح مسلم: ۲۵۸۶) امام نووی نے کہا: اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی جا رہی ہے، جو لوگوں میں رواج پا چکی ہے، ولیموں میںمالدار لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے لیے اچھے اچھے کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کو دوسرے محتاجوں پر مقدم کیا جاتا ہے، اکثر ولیموں میںیہی کچھ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7044
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7613»